
غربت صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں۔ یہ ایک سوچ، رویے اور فیصلوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں لاکھوں لوگ دن رات محنت کرتے ہیں، مگر پھر بھی مالی طور پر آگے نہیں بڑھ پاتے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اس بلاگ آرٹیکل میں ہم غربت کی وہ 15 بنیادی وجوہات بیان کر رہے ہیں جو بظاہر عام لگتی ہیں، مگر حقیقت میں انسان کو پوری زندگی مالی مسائل میں جکڑے رکھتی ہیں۔
اگر آپ واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں، تو یہ تحریر آپ کے لیے ایک آنکھیں کھول دینے والا آئینہ ثابت ہو سکتی ہے۔
1۔ سرکاری نوکری کا نشہ
پاکستانی نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی 8 سے 10 سال صرف اس انتظار میں ضائع کر دیتا ہے کہ کہیں سرکاری نوکری مل جائے۔
25 ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار اسے اپنی توہین لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ:
- 30 سال کی عمر تک والدین پر انحصار
- نہ تجربہ، نہ بچت، نہ مہارت
- اور جب ہوش آتا ہے تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے
یاد رکھیں، روزگار چھوٹا نہیں ہوتا، تاخیر نقصان دہ ہوتی ہے۔
2۔ دکھاوے کی شادیاں
جیب خالی، مگر شادی میں:
- 10 لاکھ کا کھانا
- 5 لاکھ کا جہیز
- اور صرف 4 گھنٹے کی نمائش
یہ قوم اپنی زندگی کی جمع پونجی صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے خرچ کر دیتی ہے، اور پھر اگلے 5 سے 7 سال قرض اتارتی رہتی ہے۔
سادگی عزت کم نہیں کرتی، بلکہ مالی سکون دیتی ہے۔
3۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے، مگر:
- ایک پروفیشنل ای میل لکھنا نہیں آتا
- کوئی مارکیٹ ایبل اسکل نہیں
ہمارا تعلیمی نظام ڈگری ہولڈرز پیدا کرتا ہے، اسکل ہولڈرز نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، Skill کو پیسے دیتی ہے۔
4۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ:
- ایک بھائی کماتا ہے
- باقی سب اس پر انحصار کر لیتے ہیں
اس طرح کمانے والا بھی کبھی سرمایہ کاری نہیں کر پاتا، کیونکہ اس کی کمائی دوسروں کے خرچ میں نکل جاتی ہے۔
نتیجہ؟ سب غریب رہتے ہیں۔
5۔ کمیٹی کلچر
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے، مگر کمیٹی ڈالنا محفوظ لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ:
- کمیٹی Dead Money ہے
- مہنگائی آپ کے پیسے کی قدر کم کر دیتی ہے
دو سال بعد ملنے والا ایک لاکھ، اصل میں ساٹھ ہزار کے برابر بھی نہیں رہتا۔
6۔ جھوٹی انا (Ego)
“میں فلاں خاندان سے ہوں، میں یہ کام نہیں کر سکتا”
یہ جھوٹی انا لاکھوں گھروں کی تباہی کی وجہ ہے۔
- لوگ بھوکے مر جائیں گے
- مگر رکشہ، ریڑھی یا آن لائن کام شروع نہیں کریں گے
یاد رکھیں:
کام چھوٹا نہیں ہوتا، سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔
7۔ صحت کو نظر انداز کرنا
ہم 40 سال تک:
- تیل
- چینی
- جنک فوڈ
کھا کر جسم تباہ کرتے ہیں، اور پھر 50 کے بعد ساری کمائی ہسپتالوں میں دے دیتے ہیں۔
خراب صحت = مسلسل غربت۔
8۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہم امیر تو بننا چاہتے ہیں، مگر:
- محنت کے بغیر
- پروسس کے بغیر
کبھی ڈبل شاہ، کبھی فراڈ، کبھی لاٹری۔
جو قوم محنت کے بجائے معجزے ڈھونڈتی ہے، وہ نسلوں تک غریب رہتی ہے۔
9۔ الزام تراشی کی عادت
“حکومت خراب ہے”
“یہ لیڈر کھا گیا”
“سسٹم بیکار ہے”
یہ جملے ناکام لوگ بولتے ہیں تاکہ اپنی نالائقی تسلیم نہ کرنی پڑے۔
جب تک انسان اپنی غلطی نہیں مانتا، وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
10۔ ادھار پر عیاشی
قسطوں پر آئی فون، مہنگے کپڑے، غیر ضروری گاڑیاں —
صرف ان لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے جو ہمیں جانتے بھی نہیں۔
یہ سب مالی خودکشی ہے، جو ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے۔
11۔ سیکھنا بند کر دینا
ڈگری ملتے ہی:
- کتاب بند
- سیکھنا ختم
پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔
جب آپ اپنے دماغ پر سرمایہ کاری بند کرتے ہیں، تو جیب خود بخود خالی ہونے لگتی ہے۔
12۔ اولاد کو انشورنس سمجھنا
“زیادہ بچے ہوں گے تو کمانے والے زیادہ ہوں گے”
یہ سوچ غربت کو جنم دیتی ہے۔
وسائل کے بغیر پرورش پانے والے بچے سرمایہ نہیں، بلکہ:
- والدین پر بوجھ
- اور معاشرے کا مسئلہ بن جاتے ہیں
13۔ رسک لینے کا خوف
“کہیں پیسہ ڈوب نہ جائے”
اسی خوف میں لوگ:
- پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں
- یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں
جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔
14۔ حاسدانہ رویہ
امیر کو دیکھ کر یہ نہیں پوچھتے کہ “یہ کیسے کامیاب ہوا؟”
بلکہ کہتے ہیں: “ضرور حرام کمایا ہوگا”
یاد رکھیں،
جس چیز سے آپ نفرت کرتے ہیں، لاشعوری طور پر آپ وہ بننا بھی نہیں چاہتے۔
15۔ وقت کا قتل
چائے کے ہوٹلوں پر سیاست
سوشل میڈیا پر گھنٹوں اسکرولنگ
فضول محفلیں
غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز وقت ہوتی ہے، اور وہی سب سے زیادہ ضائع کرتا ہے۔
نتیجہ: اصل مسئلہ کیا ہے؟
اپنی بدحالی کا الزام حکومت یا تقدیر پر ڈالنا آسان ہے،
مگر حقیقت یہ ہے کہ:
آپ کی جیب خالی نہیں، آپ کی سوچ بنجر ہے۔
جب تک آپ:
- جھوٹی انا
- سستی
- اور شارٹ کٹ کی سوچ
کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کا پیچھا کرتی رہے گی۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

