
وفاقی حکومت نے ایک اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم کرنے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ پالیسی نافذ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے عملی نفاذ کے لیے نیپرا (NEPRA) نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان بھر میں موجود لاکھوں سولر صارفین اور آئندہ سولر لگوانے کا ارادہ رکھنے والے افراد کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے بجلی کے بل، سولر سرمایہ کاری، اور واپسی (ROI) سب کچھ متاثر ہوگا۔
اس مضمون میں ہم سادہ اور آسان الفاظ میں سمجھیں گے کہ نیٹ میٹرنگ کیا تھی، حکومت نے اسے کیوں ختم کیا، نیٹ بلنگ کیا ہے، اور عام صارف کو اب کیا کرنا چاہیے۔
نیٹ میٹرنگ کیا تھی؟ (Net Metering Explained in Urdu)
نیٹ میٹرنگ دراصل ایک ایسا نظام تھا جس نے پاکستان میں سولر انرجی کو غیر معمولی فروغ دیا۔ اس نظام کے تحت:
- دن کے وقت جب سولر پینلز زیادہ بجلی پیدا کرتے تھے، تو اضافی بجلی قومی گرڈ میں چلی جاتی تھی
- رات کے وقت یا ضرورت کے مطابق صارف گرڈ سے بجلی واپس لے لیتا تھا
- لی گئی (Import) اور دی گئی (Export) بجلی ایک ہی ریٹ پر ایڈجسٹ ہوتی تھی
- اگر ایکسپورٹ یونٹس زیادہ ہوتے، تو صارف کا بل زیرو یا نہایت کم آتا تھا
اسی وجہ سے پاکستان میں لاکھوں گھروں اور کاروباری اداروں نے سولر سسٹم لگوایا۔ اندازوں کے مطابق اس نظام سے صارفین کو اربوں روپے کا مجموعی ریلیف ملا۔
حکومت نے نیٹ میٹرنگ کیوں ختم کی؟
حکومت اور پاور سیکٹر کے اداروں کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے:
- بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (DISCOs) کو بھاری مالی نقصان ہو رہا تھا
- گرڈ کی دیکھ بھال، لائن لاسز اور انفراسٹرکچر کے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے تھے
- غیر سولر صارفین پر بوجھ بڑھ رہا تھا
ان وجوہات کی بنیاد پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ موجودہ نظام طویل مدت کے لیے قابلِ عمل نہیں، اس لیے پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔
نیا نظام: نیٹ بلنگ کیا ہے؟ (Net Billing System)
نیٹ میٹرنگ کے خاتمے کے بعد اب نیٹ بلنگ سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے، جو بنیادی طور پر دو مختلف ریٹس پر مبنی ہوگا۔
اس نئے نظام میں:
- گرڈ سے لی گئی بجلی (Import Units) پر مکمل قومی ٹیرف لاگو ہوگا
- اندازاً 55 سے 65 روپے فی یونٹ
- سولر سے گرڈ کو دی گئی بجلی (Export Units) پر صرف تقریباً 27 روپے فی یونٹ ادا کیے جائیں گے
- امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس کا حساب الگ الگ ہوگا
- آخر میں دونوں رقوم کا موازنہ کر کے بل بنایا جائے گا
یعنی اب “یونٹ کے بدلے یونٹ” والی سہولت ختم ہو جائے گی۔
آسان مثال: عام صارف کے لیے سمجھنا
فرض کریں:
- آپ نے گرڈ سے بجلی لی:
300 یونٹ × 60 روپے = 18,000 روپے - آپ نے سولر سے گرڈ کو بجلی دی:
300 یونٹ × 27 روپے = 8,100 روپے
نتیجہ:
18,000 – 8,100 = 9,900 روپے بل ادا کرنا ہوگا
جبکہ نیٹ میٹرنگ کے دور میں یہی بل تقریباً صفر ہوتا تھا۔
یہی وہ بنیادی فرق ہے جو سولر صارفین کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا۔
نئی نیٹ بلنگ پالیسی کن صارفین پر لاگو ہوگی؟
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ پالیسی سب پر فوراً لاگو نہیں ہوگی۔
- یہ نظام نئے سولر کنکشن یا نئے معاہدے کرنے والوں پر لاگو ہوگا
- جن صارفین کے پاس پہلے سے 7 سالہ نیٹ میٹرنگ کنٹریکٹ موجود ہے:
- وہ کنٹریکٹ ختم ہونے تک پرانے نظام پر رہیں گے
- کنٹریکٹ کی مدت پوری ہونے کے بعد:
- ان صارفین پر بھی نیٹ بلنگ لاگو ہو جائے گی
اس لیے موجودہ سولر صارفین کو اپنے معاہدے کی مدت لازمی چیک کرنی چاہیے۔
سب سے زیادہ نقصان کن صارفین کو ہوگا؟
یہ نئی پالیسی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے:
- جو دن کے وقت کم اور رات میں زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں
- جن کے پاس بیٹری یا ہائبرڈ سولر سسٹم موجود نہیں
- جو مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں
ایسے صارفین کو اب بجلی کے بلوں میں واضح اضافہ نظر آئے گا۔
کن صارفین کو پھر بھی فائدہ ہو سکتا ہے؟
اس کے برعکس، کچھ صارفین کو اب بھی سولر سے فائدہ مل سکتا ہے، جیسے:
- جو دن کے وقت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں
- جن کے پاس ہائبرڈ یا بیٹری بیسڈ سولر سسٹم ہے
- جو گرڈ سے کم بجلی لیتے ہیں اور خود استعمال (Self-Consumption) پر فوکس کرتے ہیں
ان صارفین کے لیے سولر اب بھی ایک بہتر متبادل ہو سکتا ہے، مگر پلاننگ کے ساتھ۔
اب عام آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟ (Practical Advice)
موجودہ حالات میں چند عملی اقدامات نہایت ضروری ہیں:
- نیا سولر لگوانے سے پہلے آن گرڈ سسٹم پر دوبارہ غور کریں
- مستقبل کے لیے ہائبرڈ یا بیٹری سسٹم زیادہ محفوظ انتخاب ہو سکتا ہے
- موجودہ سولر صارفین اپنے نیٹ میٹرنگ کنٹریکٹ کی مدت ضرور چیک کریں
- صرف سستی تنصیب کے بجائے لمبی مدت کے فائدے کو مدنظر رکھیں
غلط پلاننگ مستقبل میں مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
نتیجہ: سولر صارفین کے لیے ایک نیا دور
حکومت کے اس فیصلے کے بعد اب سولر صارفین کو وہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا جو نیٹ میٹرنگ کے دور میں ممکن تھا۔
اب:
- گرڈ سے لی گئی بجلی مہنگی ہوگی
- سولر سے بیچی جانے والی بجلی سستی ہوگی
- بجلی کے بل دوبارہ آنا شروع ہو جائیں گے
یہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے جس کا اثر ہر اس شخص پر پڑے گا جو سولر سسٹم لگوانے کا ارادہ رکھتا ہے یا پہلے سے سولر استعمال کر رہا ہے۔
سمجھداری، درست معلومات، اور مستقبل کی منصوبہ بندی ہی اب بہترین راستہ ہے۔

